Roman Urdu
Lyrics
Aankhon se haya tapke hai, andaaz to dekho
Hai bu-l-hawason par bhi sitam, naaz to dekho
Us but ke liye main hawas-e-hoor se guzra
Is ishq-e-khush-anjaam ka aaghaaz to dekho
Chashmak meri wahshat pe hai kya hazrat-e-naasih
Tarz-e-nigah-e-chashm-e-fusun-saaz to dekho
Aankhon se haya tapke hai, andaaz to dekho
Hai bu-l-hawason par bhi sitam, naaz to dekho
Arbaab-e-hawas haar ke bhi jaan pe khele
Kam-taala’i-e-aashiq-e-jaanbaaz to dekho
Majlis mein mere zikr ke aate hi uthe wo
Badnaami-e-ushshaaq ka eizaaz to dekho
Mehfil mein tum aghyaar ko duz-deeda nazar se
Manzoor hai pinhaan na rahe raaz to dekho
Us ghairat-e-Naahid ki har taan hai Deepak
Shola sa lapak jaaye hai aawaaz to dekho
Den paaki-e-daaman ki gawaahi mere aansu
Us Yusuf-e-bedard ka eijaaz to dekho
Aankhon se haya tapke hai, andaaz to dekho
Hai bu-l-hawason par bhi sitam, naaz to dekho
Jannat mein bhi Momin na mila hai buton se
Jaur-e-ajal-e-tafraqa-pardaaz to dekho
Interpretation
Meaning
“ناز و انداز” مومن خان مومن کا ایک نہایت لطیف، شوخ، اور عاشقانہ کلام ہے جس میں محبوب کے حسن، ادا، حیا، ناز، اور عاشق کی بے بسی کو بڑے نفیس انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال محبوب کی وہ کشش ہے جو صرف عاشقوں پر نہیں بلکہ ہوس پرست لوگوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
ابتدائی شعر میں شاعر محبوب کی آنکھوں، حیا، انداز، اور ناز کا ذکر کرتا ہے۔ “آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے” سے مراد یہ ہے کہ محبوب کی نگاہ میں شرم، نزاکت، اور پاکیزگی ایسی نمایاں ہے جیسے حیا آنکھوں سے بہہ رہی ہو۔ مگر اسی کے ساتھ اس کا ناز اتنا ظالم ہے کہ عام خواہش رکھنے والے لوگ بھی اس کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔
شاعر کہتا ہے کہ اس محبوب کے لیے میں حوروں کی خواہش سے بھی گزر گیا۔ یعنی جنتی حسن اور روایتی آرزو بھی اس محبوب کے مقابلے میں بے معنی ہو گئی۔ یہاں عشق کا آغاز ہی ایسا ہے کہ عاشق دنیاوی یا اخروی لذتوں سے بلند ہو کر محبوب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
“حضرتِ ناصح” سے مراد وہ نصیحت کرنے والا شخص ہے جو عاشق کو عشق سے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میری وحشت پر نصیحت کرنے والے کی آنکھوں کا اشارہ بھی دیکھنے کے قابل ہے، مگر اصل جادو تو محبوب کی فسون ساز نگاہ میں ہے۔ یعنی عاشق کی دیوانگی کا سبب کوئی کمزوری نہیں، بلکہ محبوب کی جادو بھری نظر ہے۔
کلام کے ایک حصے میں شاعر عاشقوں کی بدنامی کو بھی ایک اعزاز بنا دیتا ہے۔ جب مجلس میں عاشق کا ذکر آتا ہے تو محبوب اٹھ جاتا ہے۔ بظاہر یہ بے اعتنائی ہے، مگر شاعر اسے عاشقوں کی بدنامی کا اعزاز کہتا ہے، کیونکہ محبوب کا ردِعمل بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ عشق کا اثر موجود ہے۔
“دزدیدہ نظر” یعنی چوری چھپے دیکھنا۔ شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ تم محفل میں غیروں کو چوری چوری دیکھتے ہو، گویا تمہیں منظور ہے کہ راز چھپا نہ رہے۔ اس میں محبوب کی بے وفائی، شوخی، اور راز کھل جانے کا لطیف شکوہ موجود ہے۔
“غیرتِ ناہید” محبوب کے نغمگی، حسن، اور لطافت کی طرف اشارہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کی ہر تان دیپک کی طرح ہے، یعنی اس کی آواز میں ایسی حرارت ہے کہ شعلہ سا لپک اٹھتا ہے۔ یہاں موسیقی، حسن، اور آگ کو ایک ساتھ جوڑا گیا ہے۔
آخری اشعار میں عاشق اپنے آنسوؤں کو اپنی پاک دامنی کی گواہی بناتا ہے۔ وہ محبوب کو “یوسفِ بے درد” کہتا ہے، یعنی ایسا حسین مگر بے رحم محبوب جس کا حسن معجزے جیسا ہے، مگر جس کے دل میں عاشق کے لیے نرمی نہیں۔
آخر میں مومن کہتے ہیں کہ جنت میں بھی بتوں سے ملاقات نہ ہو سکی۔ یہاں “بت” محبوبانِ حسن کی علامت ہیں۔ شاعر موت کو بھی ظالم کہتا ہے، کیونکہ وہ عاشق اور محبوب کے درمیان جدائی کا پردہ ڈال دیتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ کلام حسن، حیا، ناز، بے وفائی، عاشق کی رسوائی، اور محبوب کی ظالم کشش کا حسین امتزاج ہے۔ مومن نے اس میں عشق کو ایک ایسی کیفیت کے طور پر پیش کیا ہے جہاں عاشق شکایت بھی کرتا ہے، حیران بھی ہوتا ہے، مگر محبوب کے ناز و انداز سے آزاد نہیں ہو پاتا۔