Ishq-o-Aqal cover artwork

Sufi / Ghazal / Urdu-Hindi poetic music

Ishq-o-Aqal

Asghar Gondvi Jun 17, 2026

Roman Urdu

Lyrics

Ye ishq ne dekha hai, ye aqal se pinhaan hai
Qatre mein samundar hai, zarre mein bayabaan hai
Hai ishq ki mehshar mein yun mast-o-khiraamaan hai
Dozakh ba-garebaan hai, firdaus ba-daamaan hai
Hai ishq ki shorish se raanaai-o-zebaai
Jo khoon uchhalta hai, wo rang-e-gulistaan hai
Ye ishq ne dekha hai, ye aqal se pinhaan hai
Qatre mein samundar hai, zarre mein bayabaan hai
Phir garm-e-nawazish hai zau mehr-e-darakhshaan ki
Phir qatra-e-shabnam mein hangaama-e-toofaan hai
Ai paikar-e-mehboobi, main kis se tujhe dekhun
Jis ne tujhe dekha hai, wo deeda-e-hairaan hai
Sau baar tera daaman haathon mein mere aaya
Jab aankh khuli dekha, apna hi garebaan hai
Ye ishq ne dekha hai, ye aqal se pinhaan hai
Qatre mein samundar hai, zarre mein bayabaan hai
Ek shorish-e-be-wasl, ek aatish-e-be-parda
Aafat-kada-e-dil mein ab kufr na imaan hai
Dhoka hai ye nazron ka, baazicha hai lazzat ka
Jo kunj-e-qafas mein tha, wo asl gulistaan hai
Ek ghuncha-e-afsurda, ye dil ki haqeeqat thi
Ye mauj-zani khoon ki, rangeeni-e-paikaan hai
Ye husn ki maujen hain ya josh-e-tabassum hai
Us shokh ke honton par ek barq si larzaan hai
Asghar se mile lekin Asghar ko nahin dekha
Ashaar mein sunte hain, kuchh kuchh wo numayaan hai
Ye ishq ne dekha hai, ye aqal se pinhaan hai
Qatre mein samundar hai, zarre mein bayabaan hai

Interpretation

Meaning

“عشق و عقل” اصغر گوندوی کا ایک نہایت گہرا صوفیانہ کلام ہے، جس میں عشق اور عقل کے فرق کو علامتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو حقیقت عشق نے دیکھی ہے، وہ عقل سے پوشیدہ ہے۔ عقل چیزوں کو ظاہر، حد، منطق، اور پیمانے سے دیکھتی ہے، جبکہ عشق ایک قطرے میں سمندر اور ایک ذرے میں بیابان دیکھ لیتا ہے۔

ابتدائی شعر اس کلام کا مرکزی خیال ہے۔ “قطرے میں سمندر” اور “ذرے میں بیاباں” سے مراد یہ ہے کہ عشق چھوٹی سے چھوٹی چیز میں بھی لامحدود معنی دیکھتا ہے۔ ایک معمولی قطرہ بھی عاشق کے لیے کائنات کا راز بن سکتا ہے، اور ایک ذرہ بھی وسعتِ وجود کی علامت ہو سکتا ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ عشق کی محشر خیز کیفیت میں عاشق مست بھی ہے اور رواں بھی۔ اس کے گریبان میں دوزخ ہے اور دامن میں فردوس۔ یعنی عشق میں تکلیف بھی ہے، نجات بھی؛ جلن بھی ہے، سکون بھی؛ سزا بھی ہے، اور رحمت بھی۔ یہی عشق کا تضاد ہے کہ وہ انسان کو توڑتا بھی ہے اور اسی ٹوٹنے میں اسے بلند بھی کرتا ہے۔

“جو خوں اچھلتا ہے، وہ رنگِ گلستاں ہے” ایک نہایت طاقتور استعارہ ہے۔ یہاں خون صرف درد یا زخم کی علامت نہیں، بلکہ اسی درد سے حسن، رنگ، اور زندگی پیدا ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک عشق کی آگ ہی کائنات کی رعنائی اور خوبصورتی کو جنم دیتی ہے۔

محبوب کے دیدار کے حوالے سے شاعر کہتا ہے کہ جس نے اسے دیکھا، وہ حیران رہ گیا۔ یہاں محبوب صرف انسانی محبوب نہیں بلکہ حسنِ مطلق، حقیقت، یا جلوۂ الٰہی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ ایسی حقیقت کو دیکھنے والی آنکھ عام نہیں رہتی؛ وہ دیدۂ حیراں بن جاتی ہے۔

“سو بار ترا دامن ہاتھوں میں میرے آیا” میں عاشق کی طلب اور فریبِ ادراک بیان ہوا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ محبوب اس کے ہاتھ آ گیا، مگر جب آنکھ کھلتی ہے تو وہ اپنے ہی گریبان کو پکڑے ہوئے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محبوب کی تلاش آخرکار اپنے ہی باطن کی طرف لوٹ آتی ہے۔

کلام کے اگلے حصے میں دل کو آفت کدہ کہا گیا ہے، جہاں اب کفر اور ایمان کی واضح تقسیم بھی باقی نہیں رہتی۔ عشق کی شدت میں عاشق روایتی خانوں سے گزر جاتا ہے۔ وہاں صرف جذبہ، آگ، حیرت، اور بے قراری رہ جاتی ہے۔

“جو کنجِ قفس میں تھا، وہ اصل گلستاں ہے” اس کلام کا ایک اہم صوفیانہ نکتہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جسے ہم قید سمجھتے تھے، شاید وہی اصل باغ تھا۔ یعنی انسان کی محدود حالت، تنہائی، یا اندرونی قفس بھی معرفت کا راستہ بن سکتا ہے، اگر اسے عشق کی نظر سے دیکھا جائے۔

آخر میں اصغر اپنے آپ کو بھی ایک راز کی طرح پیش کرتے ہیں۔ لوگ اصغر سے ملے، مگر اصل اصغر کو نہ دیکھ سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے اشعار میں کہیں کہیں ان کی اصل شخصیت نمایاں ہوتی ہے۔ یعنی شاعر کا حقیقی باطن اس کی شاعری میں جھلکتا ہے، مکمل طور پر سامنے نہیں آتا۔

مجموعی طور پر یہ کلام عشق کی بصیرت، عقل کی محدودیت، محبوب کے جلوے، اور باطنی معرفت کا بیان ہے۔ اس میں عشق ایک ایسا راستہ بن کر سامنے آتا ہے جو انسان کو ظاہر سے باطن، عقل سے حیرت، اور قطرے سے سمندر تک لے جاتا ہے۔